جموں،5جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جمعہ کو پاکستان میں گرودوارہ ننکانہ صاحب پر حملے اور وہاں موجود سکھ عقیدت مندوں کے ساتھ تصادم کے خلاف اتوار کو جموں میں سکھ برادری نے مظاہرہ کیا۔سکھ برادری نے اس معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔پاکستان میں ننکانہ صاحب گردوارے پر حملے کو لے کر ہندوستان میں سکھ کمیونٹی کا غصہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اتوار کو جموں میں سکھ برادری نے جموں پٹھان کوٹ شاہراہ پر جم کر مظاہرہ کیا۔پاکستان اور وہاں کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے سکھ برادری نے اس معاملے میں قصورواروں کو پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا دعوی ہے کہ کرتاپر کوریڈور کے افتتاح کے وقت پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کرتارپور صاحب اور ننکانہ صاحب کا موازنہ مکہ شریف سے کی تھی۔اب جبکہ ننکانہ صاحب پر اس طرح سے حملہ ہوتا ہے تو اس پر پاکستان کی حکومت کو جلد ایکشن لینا چاہیے اور قصورواروں کو گرفتار کرنا چاہئے۔سکھ برادری کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان حکومت اس حملے کے قصورواروں پر کارروائی نہیں کرتی تو ہندوستانی سرکار اس معاملے پر خاموش کیوں ہے۔انہوں نے کہا کہ سکھوں کے نویں گورو تیغ بہادر نے ہندو مذہب کو ہندوستان میں محفوظ کیا تھا، تو پی ایم مودی اور امت شاہ اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔